پولٹری بحران برائیلر پیداواریلاگت سے کم میں سیل نقصان
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کا بحران: پیداواری لاگت، عدم اتفاق اور حکومتی غفلت
پاکستان میں برائلر کی پیداواری لاگت 300+ روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ فارم پر فارمر کو ریٹ صرف 250 سے 260 روپے فی کلو مل رہا ہے۔ 40 سے 50 روپے فی کلو کا یہ براہِ راست نقصان انڈسٹری اور خصوصاً چھوٹے فارمرز کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔
حکومتی پالیسی اور تکنیکی بصیرت کا فقدان
اس شدید معاشی دباؤ کے باوجود، سرکاری اور حکومتی سطح پر کوئی جامع یا دیرپا پالیسی موجود نہیں ہے۔ انتظامیہ صرف مارکیٹ میں مرغی کا گوشت سستا کروانے کے لیے پرائس کنٹرول یا چھاپوں تک محدود رہتی ہے، جبکہ بنیادی مسائل (فیڈ خام مال کی قیمتیں، درآمدی ڈیوٹیز، اور انرجی کاسٹ) کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔
پاکستان میں پولٹری سیکٹر کے لیے کارآمد اور طویل المدتی پالیسی سازی کی شدید ضرورت ہے، جس کے لیے تکنیکی ماہرین (Veterinarians، Nutritionists، اور Poultry Economists) اور فیلڈ کے تجربہ کار لوگوں کو پالیسی ڈیسک پر لانا ہوگا نہ کہ صرف بیوروکریسی کے فیصلے مسلط کیے جائیں۔
فارمرز اور کارپوریٹ گروپس کے درمیان عدم اتفاق
انڈسٹری کا ایک اور بڑا ہلاکت خیز پہلو یہ ہے کہ انٹیگریٹرز/کارپوریٹ گروپس اور عام پولٹری فارمرز کے درمیان باہمی اتفاق اور ہم آہنگی بالکل نہیں ہے:
ریٹ اور سپلائی پر تناؤ: کارپوریٹ گروپس اور انٹیگریٹرز اپنی پروڈکشن اور حجم کی بنیاد پر مارکیٹ پر اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ آزاد فارمر (Independent Farmer) لاگت سے کم قیمت پر مال بیچنے پر مجبور ہو کر معاشی طور پر پس رہا ہے۔
مشترکہ حکمتِ عملی کا نہ ہونا: جب تک ہیچری مالکان، فیڈ ملز، کارپوریٹ ہاؤسز اور فارمر ایسوسی ایشنز ایک پیج پر آ کر پیداوار (Placement) کو کنٹرول اور منظم نہیں کریں گی، مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا طوفان ختم نہیں ہوگا۔
بحران کے بنیادی اسباب (Technical Factors)
برائلر کی پیداواری سائیکل اگرچہ 35 سے 40 دن کی ہے، لیکن موجودہ حالات میں فارمنگ کی معیشت درج ذیل عوامل کی وجہ سے مفلوج ہو چکی ہے:
فیڈ اور خام مال کا بحران: سویا بین میل اور مکئی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ فیڈ کاسٹ کو غیر معمولی حد تک بڑھا رہا ہے (جو کل لاگت کا 70% سے 75% ہے)۔
موسمیاتی دباؤ (Heat Stress): شدید گرمی کی وجہ سے فارمز پر FCR کی خرابی، وزن میں کمی، اور زائد اموات (Mortality) کے ساتھ ساتھ ٹنل وینٹیلیشن پر بجلی و ڈیزل کا زائد خرچ۔
DOC (چوزے) کی قیمت میں اتار چڑھاؤ: چوزے کی لاگت میں استحکام نہ ہونا بھی فارمر کے تخمینے کو تباہ کر دیتا ہے۔
حل اور پیش رفت کا راستہ
اگر پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کو بچانا ہے تو صرف سطحی اقدامات کافی نہیں ہوں گے:
حکومتی نیشنل پولٹری پالیسی: حکومت کو چاہیے کہ تکنیکی ماہرین کی مشاورت سے ایک پائیدار پالیسی بنائے جو فیڈ کا خام مال مقامی سطح پر اگانے اور انرجی ٹیرف میں فارمرز کو ریلیف دینے پر کام کرے۔
فارمر اور کارپوریٹ اتحاد: انٹیگریٹرز اور فارمرز کے درمیان پیداوار کو منظم کرنے کے لیے مشترکہ باڈی تشکیل دی جائے تاکہ ضرورت سے زائد چوزہ فلاک میں نہ آئے اور فارم ریٹ کو لاگت پیداوار (Production Cost) کے مطابق برقرار رکھا جا سکے۔
ریٹ کا پیداواری لاگت سے رشتہ: فارم ریٹ کا تعین محض آرٹیفیشل منڈی کے بجائے سائنسی بنیادوں پر لاگتِ پیداوار کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔
#Poultryupdates

Comments
Post a Comment